کاروار:یکم اکتوبر (ایس اؤنیوز) جمعہ کو کاروار کے ماہی گیروں کی قسمت اس وقت چمک گئی جب انہیں کاروار کے سمندری ساحل سے کچھ ہی میل دوری پر ٹنوں وزنی مچھلیاں جال میں پائی گئیں ، منظر کو دیکھتے ہی ماہی گیر خوشی سے پھولے نہ سماتے ہوئے ناچتے گاتے اپنی کشتیوں کے ذریعے ساحل پر پہنچے ۔ قسمت کا کھیل بھی عجیب ہوتاہے ، سمندر میں طوفانی ہواؤں اور اونچی موجوں کو دیکھتے ہوئے پچھلے تین دنوں سے ماہی گیروں کو سمندر میں اترنے سے روک دیا گیا تھا اس کے بعد جب اترے تو تقدیر کے ماروں کو قسمت نے چمکا دیا۔
پچھلے چار دہوں میں ماہی گیروں کو اتنی مچھلیاں بیک وقت مل نہیں پائی تھیں، اور آج جب ملیں تو شہر کے رابندر ناتھ ٹیگور بیچ پر عوام کا جمگھٹا تھا جس کو جو مچھلی چاہئے تھی وہ اٹھا کر لے گئے۔ اس طرح مچھلیوں کا زائد تعداد میں پایا جانا دراصل پچھلے 15دنوں میں ہورہی موسمی تبدیلی ایک اہم وجہ ہے۔ یعنی ضلع کے اوپری علاقہ میں ہورہی موسلا دھار بارش کا پانی سمندر میں کئی قسم کی غذائی اجزاء کو ساتھ لے کر ملنے سے مچھلیاں ساحل کے قریب پہنچی ہوئی تھیں۔ جمعہ کو جال میں پھنسنے والی بے شمار مچھلیوں کے ساتھ مارکیٹ میں اپنی اونچی قیمتوں کے لئے مشہور جھینگے ، میکریل، ملبار ٹرویو، وایلی ٹیونا اور اورینٹل بونیٹو وغیرہ شامل ہیں، ان میں سے اکثر مچھلیاں پڑوسی ریاست گوا سپلائی کی جاچکی ہیں۔
سیتا رام ہری کنتر معمول کے مطابق مچھلیوں کو پکڑنے کے لئے اپنا جال بچھایا تھا مگر جب جال کو اٹھالیا گیا تو یہ دیکھ کر خود کشتی کا مالک ششدر تھا کہ لاکھوں روپئے مالیت کی مچھلیاں اس کے چنگل میں تھیں۔ عوام کو اس کی اطلاع ملتے ہی پلاسٹک تھیلیاں، ٹوکریاں بھر بھر کر لے گئے تو کچھ عورتیں اپنی اوڑھنی کو ہی تھیلی بنا کر مچھلیاں لے گئیں۔ ایک پرشین بوٹ جتنی مچھلیاں ایک ہفتہ میں شکار کرتی ہے اتنی مچھلیاں یہاں ایک ہی دن میں ملنے سے ہرکوئی تعجب کا اظہار کررہاہے۔
متعلقہ کشتی مالک نے اس خصوصی مچھلی جال کو بچھایا تھا جو کبھی 40سال پہلے استعمال کیا جاتاتھا ۔ ایم ڈی رمپنی نامی یہ مچھلی شکارکا جال بہت لمبا ہوتا ہے ماہی گیر سمندر میں اس کو بچھا کر 10-15دنوں کے بعد جب چاہے تب جال میں سے مچھلیاں نکال کر لاتے تھے، اب یہ نیٹ استعمال میں نہیں ہیں، ایم رمپنی کا مطلب چھوٹے چھوٹے مچھلی شکار کے جالوں کو کہا جاتاہے۔ متعلقہ نیٹ کے ذریعے ہزاروں کی تعدا د میں مختلف نسل اور رنگ کی مچھلیوں کے شکار سے ماہی گیر کافی خوش نظر آئے اور کئی ایک کا کہنا تھا کہ ماہی گیروں کے لئے یہ کافی خوش آئند فال ہے۔ عوام بے شمار مچھلیوں کو لے جانے کے بعد بھی مچھلیوں کا ڈھیر تھا تو سیتارام ہری کنتر نے بہت ہی کم قیمت پر ان مچھلیوں کو بیچ دیا۔
سرکاری عملہ پانڈورنگا ہری کنتر نے واقعہ پر 1980 کے دوران ہونے والی ماہی گیری کو یاد کیا۔ اور کہا کہ بیک وقت ساحل پر 500سے زائد ماہی گیر آپ کو نظر آتے تھے اور ضرورت کے مطابق مچھلی کا شکار کرتے تھے۔ گنیش ہری کانت نامی ماہی گیر کا کہنا تھا کہ پچھلے 15سالوں میں پہلی مرتبہ اتنی بڑی تعداد میں ہم نے مچھلیاں دیکھی ہیں۔